21 جون 2013 - 19:30
پشاور دھماکہ طالبان دہشتگردوں سے مذاکرات کا نتیجہ ہے

مرکزی میڈیا سیل سے جاری ہونیوالے اپنے تعزیتی بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فرزند کی شہادت پر علامہ سید علی الحسینی اور خانوادہ شہید قائد کو ہدیہ تعزیت پیش کرتا ہوں۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے پشاور میں امریکی ایجنٹوں کے ہاتھوں جامعہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) میں دوران نماز جمعہ ہونے والے خودکش بم دھماکے میں شہید ہونے والے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے پوتے سید مہدی حسینی اور دیگر بیگناہ نمازیوں کی مظلومانہ شہادت پر خانوادہ شہید قائد علامہ عارف حسینی (رہ) اور دیگر تمام شہداء کے خانوادوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمی پوتے رضا حسینی کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے اپنے تعزیتی بیان میں علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ شہادت آج ایک مرتبہ پھر قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے گھر کی زینت بنی ہے، دادا کی جائے شہادت پر پوتے کو جام شہادت نوش کرنے پر علامہ سید علی الحسینی اور خانوادہ شہید قائد کو ہدیہ تعزیت پیش کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں جامعہ شہید عارف الحسینی (رہ) پر دہشت گردوں کا حملہ ضیاءالحق کے روحانی فرزندوں کی کارستانی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ہم چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود بھی اپنے امام (ع) کے قاتلوں کو نہیں بھولے تو 25 برس قبل شہید ہونے والے اپنے محبوب قائد علامہ عارف حسین الحسینی اور آج ان کے شہید ہونے والے پوتے سید مہدی حسینی کے قاتلوں کو کس طرح فراموش کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں جائے شہادت قائد شہید پر دوران نماز ہونے والا خودکش حملہ دراصل طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کا نتیجہ ہے، جب زخم ناسور بن جائے تو اسے پالا نہیں جاتا بلکہ اسے کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، تاکہ جسم کا باقی حصہ محفوظ رہے۔ میں آج ایک مرتبہ پھر سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہتے ہو تو دہشت گردی کے اس ناسور کو پالنے کے بجائے کاٹ کر پھینک دو، ورنہ یہ طالبان ناسور کی صورت میں پورے وطن عزیز کو ختم کر دیں گے۔......./169